پاکستان کی شرح نمو5.5 فیصد رہے گی، عالمی بینک

3

عالمی بینک نے آئندہ مالی سال میں پاکستان کی شرح نمو 5 اعشاریہ 5 رہنے کی پیش گوئی کر دی، جبکہ مالی سال 19-2018میں یہ شرح بڑھ کر 5اعشاریہ 8فیصد ہونے کا بھی امکان ظاہر کر دیا۔

عالمی بینک کی جون کی گلوبل اکنامک پراسپیکٹس کے مطابق جنوبی ایشیا کے بارے میں اپنی تازہ اقتصادی ترقی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سازگار کاروباری ماحول کپاس کی قیمتوں میں اضافے سے زراعت کی ترقی، چین پاکستان اقتصادی راہداری کے انفرااسٹرکچر کے منصوبوں اور میکرو اکنامک استحکام سے نجی شعبے کے اندر سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر اقتصادی شرح نمو رواں برس 1اعشاریہ 9فیصد تک بڑھے گی جس سے تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور عالمی سطح پر اشیا کی قیمتوں میں استحکام رہے گا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی اقتصادی شرح نمو میں اضافے کا محرک مضبوط مقامی مارکیٹ ڈیمانڈ اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔

علاقائی نمو 19-2018تک 7اعشاریہ دو تک پہنچنے کا امکان ہے، پاکستان میں قحط سالی کے بعد زرعی شعبے میں بھی بہتری آئی ہے جبکہ آئی ایم ایف اسپانسرڈ پروگرام کی تکمیل سے میکرو اکنامک اور فارن ڈائریکٹ انوسٹمنٹ کی صورتحال بھی بہتر ہوئی ہے۔

عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں آئندہ مالی سال میں بنگلا دیش کی اقتصادی ترقی کی شرح نمو 6اعشاریہ 4فیصد، بھارت 7اعشاریہ 2فیصد، نیپال 5اعشاریہ 5، سری لنکا 4اعشاریہ 7فیصد، بھوٹان 6اعشاریہ 8فیصد، افغانستان 2اعشاریہ 6 فیصد اور مالدیپ کی 4اعشاریہ 5فیصد ہونے کی توقع ہے۔

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.