عالمی رینکنگ خراب کارکردگی کی ڈھال کیوں؟

3

سنہ 2016 کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں انڈیا کے خلاف پاکستان کی شکست کے بعد مجھے کولکتہ کے ہوائی اڈے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان سے بات کرنے کا موقع ملا تو انھوں نے یہ کہہ کر حیران کر دیا کہ اس شکست پر انھیں یقیناً مایوسی ہوئی ہے لیکن اس ٹیم سے قوم کو زیادہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کیونکہ یہ اس وقت عالمی درجہ بندی میں ساتویں نمبر پر ہے۔
اور صرف ایک سال بعد چیمپئنز ٹرافی میں پاکستانی ٹیم انڈیا کے خلاف شکست سے دوچار ہوئی ہے تو پاکستانی کرکٹ میں پائی جانے والی اس سوچ میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی رہی۔
مثبت کوچ اور اٹیکنگ کپتان کا رشتہ
انڈیا کے ہاتھوں پاکستان کو 124 رنز سے شکست
کپتان سرفراز احمد میچ سے قبل ہی یہ کہہ چکے تھے کہ ہمارے پاس تو ہارنے کے لیے کچھ ہے ہی نہیں اور ہم تو اس وقت عالمی درجہ بندی میں آٹھویں نمبر پر کھڑے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا شہریارخان اور سرفراز احمد کی اس بات کو اپنی کمزوریوں اور خامیوں کو عالمی رینکنگ میں چھپانے کی کوشش سمجھا جائے؟
اگر واقعی ایسا ہے تو پھر پاکستانی کرکٹ کے کرتا دھرتاؤں کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی رینکنگ میں اپنے سے کمزور ویسٹ انڈیز کے خلاف کامیابیوں پر یہ بیان بھی سامنے آنا چاہیے تھا کہ ان کامیابیوں کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں کیونکہ یہ اپنے سے کمزور ٹیم کے خلاف حاصل ہوئی ہیں۔
پاکستانی کرکٹ کی حالت یہ ہے کہ جان لیوا بیماری کا علاج سردرد کی گولی سے کیا جا رہا ہے۔
کوئی بھی قومی ٹیم اُسی وقت مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہوسکتی ہے جب اس کے تمام ذمہ داران صحیح سمت میں کام کر رہے ہوں۔
پاکستانی کرکٹ کا سب سے کمزور شعبہ اس کی ڈومیسٹک کرکٹ ہے جو آج بھی اس بحث میں الجھی ہوئی ہے کہ ریجنل کرکٹ موزوں ہے یا ڈپارٹمنٹل کرکٹ۔

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.